راہل گاندھی اب پہلے والے راہل گاندھی نہیں ہیں

ملک کے موجودہ سیاسی منظر نامے پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو ہر طرف راہل گاندھی ہی چھائے ہوئے ہمیں نظر آتے ہیںاگر پچھلے دو ماہ کا جائزہ لیں تو ہمیں صاف نظر آتا ہے راہل گاندھی فرنٹ فوٹ پر کھیل رہے ہیں اور وزہر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ بیاک فوٹ پر کھیل رہے ہیں راہل گاندھی کی امیج اب بلکل بدل چکی ہے وہ نوجونوں کی پہلی پسند بن چکے ہیں۔
آپ سب نے دیکھا ہوگا جب راجیو گاندھی کا انتم سنسکار کیا جا رہا تھا اس وقت راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی ا س انتم سنسکار میں دیکھے گئے تھے اس وقت جن لوگوں نے راہل گاندھی کو دیکھا ہوگا کوئی گمان بھی نہیں کر سکتا وہ راہل گاندھی آج ملک کی سیاست پر اس قدر حاوی ہے وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ راہل گاندھی کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔ سونا تپنے کے بعد ہی کندن بنتا ہے یہ مثال ب راہل گاندھی پر فٹ ہوتی ہے ہندوستان کے سب سے اونچے سیاسی گھرانے کا چشم و چراغ جس کی لو کمزور ہو سکتی ہے مگر بجھ نہیں سکتی یہ بات واضح ہو گئی ۔2014’2019’2024′ ان تین الیکشن میں42 سے 51 اور 99 سیٹوں پر پہنچ جانا اس گراف کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے راہل گاندھی سیاست میں بلندی پر جا رہیں ہیں۔2026 راہل گاندھی کو سیاسی اعتبار سے ہر مقام پر فائدہ ملتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ جہاں انھوں نے حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کی اور الیکشن کمیشن پر سوال اٹھائے اور یہ اعلان کیا اگر ان کی حکومت مرکز میں آتی ہے تو جو لوگ آج غلط کام کر رہے ہیں وہ بچ نہیں پائیں گے ۔
نیٹ پیپر لیک کے خلاف سب سے پہلے راہل گاندھی نے آواز اٹھائی تھی اور ملک کے بیشتر حصوں میں احتجاج بھی کیا تھا مگر اس کو گودی میڈیا نے اتنی جگہ نہیں دی جتنی جگہ دینی تھی۔ اسی معاملے کو جب کاکروچ جنتا پارٹی نے سونم وانگ چک کی قیادت میں ابھیجیت دیپکے , سورا داس اور آشوتوش رانکا نے جنتر منتر پر احتجاج شروع کیا مسلسل کئی دنوں بعد اس آندولن کو ملک گیر شہرت ملی اور ملک کے نوجوان کثیر تعداد میں اس آندولن سے جڑے اور جب 20 جولائی کو پارلیمنٹ کا گھیرائوکرنے نکل پڑے اس وقت پولیس اور طلبہ کے درمیان تصادم کی صورتحال پیدا ہوئی اس کے بعد جاری احتجاج نے حکومت کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اس کے بعد دھرمیندر پردھان کا استعفی ہوا کاکروچ جنتا پارٹی کی طرف سے آشوتوش رانکا اور سورو داس اور حکومت کی جاب سے جے پی نڈا اور جتیندر سنگھ کے درمیان مصالحت ہوئی کاکروچ جنتا پارٹی کے تمام شرائط قبول کر لئے گئی جس کے بعد جنتر منتر کا آندولن ختم کیا گیا ۔ وعدے کے مطابق حکومت عمل نہیں کی جس کی وجہہ سے کاکروچ جنتا پارٹی نے پھر اعلان کیا 5 سپٹمبر سے انڈیا گیٹ سے آندولن شروع کریں گے آندولن کا اعلان کیا گیا اس آندولن کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ان شرائط کو ماننے کا اعلان کر دیا ۔
پائلٹ گن سے زخمی نوجوان کی ابھی تک یف آئی آر درج نہیں گئی تھی جس کے لئے راہل گاندھی نے چھے گھنٹے پولیس تھانے کے باہر بیٹھ کرنوجوان کی یف آئی آو درج کرائی۔ راہل گاندھی پوری طاقت کے ساتھ نوجوانوں کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ اسی طرح زخمی نشو آزاد کے پتا کی بھی یف آئی آر نہیں لکھی جا رہی تھی نشو آزاد نے سوشیل میڈیا میں راہل گاندھی سے اپیل کی جس کا جواب راہل گاندھی نے فورا دیا اور کہا میں آپ کے ساتھ ہوںپھر انہوں نے نشو آزاد کی یف آئی آر درج کرائی جس وقت راہل گاندھی پولیس تھانہ پہنچے اس وقت پپو یادو اور چند ر شیکھر آزاد بھی ساتھ میں تھے ۔را ہل گاندھی بی جے پی کی ہر اس کمزوری کا پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں اور نوجوانوں کا حوصلہ بلند کر رہے ہیں راہل گاندھی کو جتنے یف آئی آر کرانے پڑیں گے بی جے پی کے لئے اتنا ہی نقصان ہوگا نشو آزاد ایک دلت سماج سے تعلق رکھتی ہیںاس لئے آنے والے انتخابات میں اس کا راہل گاندھی کو فائدہ مل سکتا ہے۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے 8 اگسٹ کو ہلدوانی میںایک جلسے کے لئے پہنچے تھے بعد میں یہ اطلاع ملی جہاں کھرگے جی پہنچے تھے اس جگہ کا شدھی کرن کیا گیا اور خود ملکارجن کھرگے نے افسوس کے ساتھ ر جیہ سبھا میں اس بات کا ذکر کیا جس کو بی جے پی کے لیڈ جے پی نڈا جی نے معذرت کا ا اظہار بھی کیا۔ مگر جن لوگوں نے شدھی کرن کیا تھا وہاں کی حکومت ان لوگوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لی جس کی وجہ سے راہل گاندھی نے اس کو بھی ایجنڈے میں لایااور کہا جو لوگ اس شدھی کرن کے ذمہ دار ہیں ان کے خلاف یس سی یس تی ایکٹ کے تحت کاروائی ہو۔
ان حالیہ دو ماہ کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا راہل گاندھی جارہانہ طور پر ہر جگہ نظر آتے ہیںایک رپورٹر نے راہل گاندھی سے کوئی سوال پوچا جس کا جواب دینے کے بعد رپورٹر نے پھر سوال کیا تب ,, راہل گاندھی نے رپورٹر سے پوچھا جس طرح آپ ہم سے کائونٹر سوال کرتے ہو کیا کبھی آپ نے امیت شاہ سے کائوٹر سوال کیا ہے اتنا سنتے ہی رپورٹر کے ہوش اڑ گئے ,, اور یہ بات سچ ہے کسی رپو ٹر میں اتنی ہمت نہیں ہے وہ امیت شاہ سے کائونٹر سوال کریں ۔ راہل گاندھی لوگوں کے مسائل کو اچھی طرح سے اٹھا رہے ہیں اور بی جے پی کا پردہ فاش کر رہے ہیںبی جے پی جن ایجنڈوں کے سہارے اب انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے آ رہی تھی اب اتنا آسان نہیں2029 کے انتخابات میں راہل گاندھی کامیاب ہوں گے یا نہیں ابھی سے نہیں کہا جا سکتا ہاں اگرا ترپردیش کے چنائو میں انڈیا کو کامیابی ملتی ہے تو راہل گاندھی کے لئے دہلی جانے کا راسہ صاف ہو سکتا ہے اس سے پہلے ملک کی بہت سی ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں وہاں کے انتخابات بھی مرکزی انتخابات پر بہت اثر انداز ہوتے ہیں۔
ہندوستان میں مذہب کے نام پر سیاست کو انکار نہیں کیا جا سکتا اس لڑائی کو راہل گاندھی کس طرح لڑتے ہیں اہم ہے اگلے سال یو پی کے انتخابات ہونے ہیںابھی سے ریاست کے ووٹرس کومذہبی طور پر پولائرزیشن کیا جا رہا ہے جیسے کے حالیہ دنوں میں سہارن پور میں ایک تاریخی مسجد کو شہید کیا گیا اور اب مراد آباد اور سنبھل میں ایک ایک مسجد کو شہید کرنے کی پور ی تیاری ریاستی حکومت کر لی ہے۔ جہاں ایک طرف مسجدوں کو شہیدکیا جا رہا ہے اور خود یو پی کے وزیر اعلی اتر پردیش کے مذہبی مقامات ایودھیا , متھرا اور کاشی کا دورہ کر چکے ہیں۔ مذہبی نفرت کا زہرلوگوں میں بہت گہرائی تک اتر چکا ہے اس نفرت کے زہر کو ایک ہی طاقت ختم کر سکتی ہے اور وہ ملک کی نوجوان طاقت طلبہ ہیں وہ اس مذہبی نفرت کو بلکل پسند نہیں کرتے نوجوان کہتے ملک کا سمودھان سب کے لئے ایک ہے اور نوجوانوں کے حق کے لئے راہل گاندھی دلیری کے ساتھ کھڑے ہیںجنتر منتر کا آندولن نوجوانوں کے لئے بہت بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اب آگے دیکھنا ہے کیا راہل گاندھی ان نوجوانوں کو اپنے ساتھ لاپائیںگیاگر اپنے ساتھ لا پاتے ہیں تو یقیننا راہل گاندھی کی بہت بڑی کامیابی سمجھی جائے گی۔